(۱۰۰۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ لِعَکْرَمَۃَ : قُمْ فَقَرِّدْ ہَذَا الْبَعِیرَ فَقَالَ: إِنِّی مُحْرِمٌ فَقَالَ: قُمْ فَانْحَرْہُ فَنَحَرَہُ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: کَمْ تُرَاکَ الآنَ قَتَلْتَ مِنْ قُرَادٍ وَمَنْ حَلَمَۃٍ وَمَنْ حَمْنَانَۃٍ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ : یُقَالَ لِلْقُرَادِ أَصْغَرَ مَا یَکُونُ لِلْوَاحِدِۃِ قُمْقَامَۃٌ فَإِذَا کَبِرَتْ فَہِیَ حَمْنَانَۃٌ فَإِذَا عَظُمَتْ فَہِیَ حَلَمَۃٌ۔
قَالَ وَالَّذِی یُرَادُ مِنْ ہَذَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ یَرَ بِتَقْرِیدِ الْمُحْرِمِ الْبَعِیرَ بَأْسًا وَالتَّقْرِیدُ أَنْ یَنْزِعَ مِنْہُ الْقِرْدَانَ بِالطِّینِ أَوْ بِالْیَدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۸۴۰۶]
(١٠٠٦١) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے عکرمہ سے کہا : کھڑے ہوجاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑی نکالو۔ اس نے کہا : میں محرم ہوں۔ اس نے کہا : تم اس کو قتل کرو۔ اس نے قتل کردیا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : اب آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے چیچڑی کو قتل کردیا۔ اسی طرح حلمہ اور حمنانہ بھی چیچڑی کی اقسام ہیں۔
ابو عبید فرماتے ہیں : اصمعی (رض) نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی قمقامہ کہلاتی ہے جب بڑی ہوجائے تو حمنانہ اور جب زیادہ بڑی ہوجائے تو حلمۃ کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جاسکتی ہے۔