(۱۰۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : عُذِّبَتِ امْرَأَۃٌ فِی ہِرَّۃٍ حَبَسَتْہَا حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا فَدَخَلَتِ النَّارَ ۔ قَالَ فَقَالَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ : لَمْ تَطْعَمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا حِینَ حَبَسَتْہَا وَلَمْ تُرْسِلْہَا فَتَأْکُلَ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ : فَدَخَلَتْ فِیہَا النَّارَ ۔ وَیُقَالُ لَہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ : لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِیہَا وَسَقَیْتِیہَا حِینَ حَبَسْتِہَا وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِیہَا فَتَأْکُلَ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مَعْنِ بْنِ عِیسَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۲۳۶]
(١٠٠٧١) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو بند رکھا جو بھوک کی وجہ سے مرگئی۔ وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی۔
راوی کہتے ہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے بلی کو نہ کھلایا، پلایا اور نہ ہی چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
ابن وہب کی روایت میں ہے کہ وہ عورت جہنم میں داخل ہوئی اور اس سے کہا جاتا تھا کہ نہ تو نے اس بلی کو نہ کھلایا، نہ پلایا جس وقت تو نے اس کو بند کیا یا باندھا تھا اور نہ ہی اس کو چھوڑا تاکہ وہ حشرات الارض ہی کھا لیتی اور وہ بھوکی مرگئی۔