(۱۰۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بْنُ تَوْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ یُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ لَیَالِیَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالاَ لاَ یَضُرُّکَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُعْتَمِرِینَ فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ دُونَ الْبَیْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَدْیَہُ وَحَلَقَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی بَدْرٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۱۷]
(١٠٠٧٩) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے گفتگو کی جن راتوں میں حاجی ابن زبیر کے پاس آئے۔ ان دونوں نے کہا کہ آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہ بن جائے تو ابن عمر (رض) فرمانے لگے : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈایا پھر واپس پلٹ آئے۔