(۱۰۰۸۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ حَدَّثَنَا سَعْدٌ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْعَوْفِیَّ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ فَنَحَرَ ہَدْیَہُ وَحَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ وَقَاضَاہُمْ عَلَی أَنْ یَعْتَمِرَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلاَ یَحْمِلَ عَلَیْہِمْ بِسِلاَحٍ وَلاَ یُقِیمَ بِہَا إِلاَّ مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ کَمَا کَانَ صَالَحَہُمْ فَلَمَّا أَقَامَ بِہَا ثَلاَثًا أَمَرُوہُ أَنْ یَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۵۴]
(١٠٠٨١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی اور سر منڈوایا۔ اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کریں گے، لیکن اسلحہ نہ لائیں گے اور قیام بھی اتنا جتنی دیر وہ (کفار) چاہیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آئندہ سال عمرہ کیا جیسے ان سے صلح ہوئی تھی۔ جب آپ وہاں تین دن ٹھہرلیتے تو انھوں نے کہا : اب چلے جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے۔