(۱۰۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْقَاضِیَانِ الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَأَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ : سُئِلَ قَتَادَۃُ عَنِ التَّیَمُّمِ فِی السَّفَرِ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔ وَکَانَ الْحَسَنُ وَإِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ یَقُولاَنَ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ۔
قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَدِّثٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَکَرْتُہُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْہُ وَقَالَ : مَا أَحْسَنَہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : ہَذَا الاِخْتِلاَفُ فِی مَتْنِ حَدِیثِ ابْنِ أَبْزَی عَنْ عَمَّارٍ إِنَّمَا وَقَعَ أَکْثَرُہُ مِنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ لِشَکٍّ وَقَعَ لَہُ ، وَالْحَکَمُ بْنُ عُتَیْبَۃَ فَقِیہٌ حَافِظٌ قَدْ رَوَاہُ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ سَمِعَہُ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ فَسَاقَ الْحَدِیثَ عَلَی الإِثْبَاتِ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ فِیہِ وَحَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ عَزْرَۃَ یُوَافِقُہُ، وَکَذَلِکَ حَدِیثُ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، وَأَمَّا حَدِیثُ قَتَادَۃَ عَنْ مُحَدِّثٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ فَہُوَ مُنْقَطِعٌ ، لاَ یُعْلَمُ مِنَ الَّذِی حَدَّثَہُ فَیُنْظَرَ فِیہِ۔
وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِیثُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ لاَ یَشُکُّ حَدِیثِیٌّ فِی صِحَّۃِ إِسْنَادِہِ۔ [صحیح]
(١٠١٢) (الف) ابان کہتے ہیں کہ قتادہ سے سفر میں تیمم کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ابن عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : ” کہنیوں تک “ اور حسن اور ابراہیم نخعی بھی یہی کہتے تھے، یعنی ” کہنیوں تک۔ “
(ب) عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کہنیوں تک۔ “ (ج) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے یہ بات ذکر کی تو انھوں نے فرمایا : کیا ہی خوب (طریقہ ہے) ۔
شیخ کہتے ہیں : یہ اختلاف حدیث ابن ابزیٰ عن عمار میں ہے اور یہ اکثر سلمہ بن کہیل سے ہے جسے شک واقع ہوا ہے۔ حکم بن عتیبہ فقیہ اور حافظ ہیں، انھوں نے اس کو ذر بن عبداللہ سے اور انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے روایت کیا، انھوں نے سعید بن عبدالرحمن سے سنا، پھر حدیث کو بغیر شک کے بیان کیا۔ امام قتادہ کا عزرہ سے روایت کرنا اس کے موافق ہے۔ لیکن وہ حدیث جو قتادہ محدث عن شعبی بیان کرتے ہیں وہ منقطع ہے۔ اس طرح یہ حدیث دوسری سند سے بھی ثابت ہے جس کی سند صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں۔