(۱۰۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُنْکِرُ الاِشْتِرَاطَ فِی الْحَجِّ وَیَقُولُ : أَلَیْسَ حَسْبُکُمْ سَنَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ حُبِسَ أَحَدُکُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی حَجَّ عَامًا قَابِلاً وَیُہْدِی أَوْ یَصُومُ إِنْ لَمْ یَجِدْ۔ قَالَ یُونُسُ قَالَ رَبِیعَۃُ : لاَ نَعْلَمُ شَرْطًا یَجُوزُ فِی إِحْرَامٍ۔ [صحیح۔ بخاری۱۷۱۵]
(١٠١٢٣) سالم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) حج میں شرط کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ کیا تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کافی نہیں ہے، اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرے۔ پھر وہ ہر چیز سے حلال ہوگیا۔ پھر وہ آئندہ سال حج کرے اور قربانی دے، اگر قربانی نہ ہو تو روزے رکھے۔ یونس اور ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کوئی شرط احرام میں جائز ہو۔