(۱۰۲۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُشْتَۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْکُوفَۃِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِکٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ الثُّمَالِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا فَاطِمَۃُ قَوْمِی فَاشْہَدِی أُضْحِیَتَکِ فَإِنَّہُ یُغْفَرُ لَکِ بِأَوَّلِ قَطْرَۃٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِہَا کُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِیہِ وَقُولِی إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا لَکَ وَلأَہْلِ بَیْتِکَ خَاصَّۃً فَأَہْلُ ذَلِکَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً قَالَ : بَلْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ لَمْ نَکْتُبْہُ مِنْ حَدِیثِ عِمْرَانَ إِلاَّ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَلَیْسَ بِقَوِیٍّ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ بِإِسْنَادِہِ عَنْ عَلِیٍّ وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوکٌ۔
وَرُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَذْبَحُ نَسِیکَۃَ الْمُسْلِمِ الْیَہُودِیُّ وَالنَّصْرَانِیُّ۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَذْبَحَ نَسِیکَۃَ الْمُسْلِمِ الْیَہُودِیُّ وَالنَّصْرَانِیُّ وَنَحْنُ نَکْرَہُ مِنْ ذَلِکَ مَا کَرِہَا وَإِنْ فَعَلَ فَلاَ إِعَادَۃَ عَلَی صَاحِبِہِ لِقَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {وَطَعَامُ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ} یَعْنِی وَاللَّہُ أَعْلَمُ ذَبَائِحَہُمْ وَنَحْنُ نَذْکُرُہُ بِتَمَامِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الذَّبَائِحِ۔ [منکر۔ اخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۴۷]
(١٠٢٢٥ ) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ ، کیوں کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی تمہارے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئے اور کہو کہ میری نماز، قربانی اور میرا جینا، مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا میں حکم دیا گیا ہوں اور میں فرمان برداری کرنے والوں میں سے ہوں، کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ اور آپ کے گھر والوں کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ عام مسلمانوں کے لیے۔
(ب) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔
(ج) ابن عباس (رض) کراہت محسوس کرتے تھے کہ مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی کرے اور ہم بھی اس کو مکروہ خیال کرتے ہیں جس کو انھوں نے مکروہ خیال کیا، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس قربانی والے پر اعادہ نہیں یعنی دوبارہ قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔ اللہ کا فرمان : { وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ } الآیۃ (المائدۃ : ٥) ” اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے جائز ہے۔