(۱۰۲۴۸) مَا فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ الضُّبَعِیِّ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ سَلَمَۃَ الْہُذَلِیُّ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَۃَ مُعْتَمِرَیْنِ قَالَ فَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَہُ بِبَدَنَۃٍ یَسُوقُہَا فَأَزْحَفَتْ عَلَیْہِ بِالطَّرِیقِ فَعُنِیَ بِشَأْنِہَا إِنْ ہِیَ أُبْدِعَتْ کَیْفَ یَأْتِی لَہَا فَقَالَ : لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لأَسْتَحْفِیَنَّ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَأَصْبَحْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَائَ قَالَ : انْطَلِقْ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثُ إِلَیْہِ قَالَ فَذَکَرَ لَہُ شَأْنَ بَدَنَتِہِ فَقَالَ : عَلَی الْخَبِیرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سِتَّ عَشَرَۃَ بَدَنَۃً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرَہُ فِیہَا قَالَ مَضَی ثُمَّ رَجَعَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَیَّ مِنْہَا قَالَ : انْحَرْہَا ثُمَّ اصْبَغْ نَعْلَیْہَا فِی دَمِہَا ثُمَّ اجْعَلْہَا عَلَی صَفْحَتِہَا فَلاَ تَأْکُلْ مِنْہَا أَنْتَ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ رُفْقَتِکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ مُسَدَّدٌ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ فَقَالَ : ثَمَانَ عَشَرَۃَ بَدَنَۃً وَہُوَ الصَّحِیحُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۲۵]
(١٠٢٤٨ ) موسیٰ بن سلمہ ہذلی فرماتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ دونوں عمرہ کے لیے نکلے۔ سنان اپنے ساتھ اپنی (قربانی) کو لے کر چلے قربانی سفر کی وجہ سے تھک گئی وہ اس کی حالت سے بڑے فکر مند ہوئے۔ اگر وہ تھک گئی تو اس کو کیسے لائیں گے۔ اس نے کہا : اگر میں شہر آیا تو اس کے بارے میں خود پوچھ تاچھ کروں گا۔ کہتے ہیں : جب ہم بطحا وادی میں آئے ، موسیٰ بن سلمہ کہنے لگے : ابن عباس (رض) کے پاس چلو۔ ہم انھیں اپنا واقع بیان کرتے ہیں۔ موسیٰ کہتے ہیں کہ سنان نے اپنی قربانی کا قصہ سنایا، فرمانے لگے : تو نے جاننے والے سے ہی مسئلہ پوچھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ساتھ ١٦ قربانیاں روانہ کیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں حکم دیا وہ چلا، پھر واپس آیا، کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! اگر کوئی سواری تھک جائے تو پھر میں کیا کروں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نحر کر، پھر اس کے قلادے والے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر رکھ نہ تو اور نہ تیرے ساتھیوں میں سے کوئی اس کو کھائے۔
(ب) مسدد عبدالوارث سے بیان کرتے ہیں کہ ١٨ قربانیاں تھیں۔ یہ صحیح ہے۔