(۱۰۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : مَنْ سَاقَ بَدَنَۃً تَطَوُّعًا فَعَطَبَتْ فَنَحَرَہَا ثُمَّ خَلَّی بَیْنَہَا وَبَیْنَ النَّاسِ یَأْکُلُونَہَا فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْء ٌ وَإِنْ أَکَلَ مِنْہَا أَوْ أَمْرَ بِأَکْلِہَا غَرِمَہَا۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۸۵۲]
(١٠٢٥٤) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جو نفلی قربانی اونٹ کی لے کر چلا وہ ہلاک ہونے لگی تو اس نے نحر کردیا، پھر قربانی اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ گیا تاکہ وہ اس کو کھاتے ہیں تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔ اگر اس نے اس سے کچھ کھایا یا کھانے کا حکم دیاتو اس کو چٹی پڑجائے گی۔