(۱۰۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّہَا اسْتَعَارَتْ قِلاَدَۃً مِنْ أَسْمَائَ فَہَلَکَتْ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -نَاسًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِی طَلَبِہَا ، فَأَدْرَکَتْہُمُ الصَّلاَۃُ فَصَلَّوْا بِغَیْرِ وُضُوئٍ ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِیَّ -ﷺ -شَکَوْا ذَلِکَ إِلَیْہِ ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ التَّیَمُّمِ ، فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : جَزَاکِ اللَّہُ خَیْرًا ، فَوَاللَّہِ مَا نَزَلَ بِکِ أَمْرٌ قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ اللَّہُ لَکَ مِنْہُ مَخْرَجًا ، وَجَعَلَ لِلْمِسْلِمِینَ فِیہِ بَرَکَۃً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔
فَہَؤُلاَئِ الصَّحَابَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ حِینَ عَدِمُوا مَائً جُعِلَ طَہُورًا لَہُمْ صَلَّوْا بِحَقِّ الْوَقْتِ ، وَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَلَمْ یُنْکِرْہُ ، کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ إِذَا عَدِمُوا الْمَائَ وَالتُّرَابَ۔ [صحیح
(١٠٢٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اسمائ (رض) سے ہار عاریتاً لیا تو وہ گم ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند صحابہ کرام کو اس کی تلاش میں بھیجا ، انھیں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اس واقعہ کی شکایت کی۔ چناں چہتیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اسید بن حضیر (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے۔ اللہ کی قسم ! آپ کی وجہ سے کوئی (مشکل) معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ نے اس میں نکلنے کا راستہ بنادیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت عطا کردی ۔