(۱۰۳۰۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ فِی سَفَرٍ لَمْ یَقُلْ زِیَادٌ فِی سَفَرٍ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیفَۃُ فِی الأَہْلِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ اللَّہُمَّ اقْبِضْ لَنَا الأَرْضَ وَہَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ ۔ فَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ : آیِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ۔ فَإِذَا دَخَلَ أَہْلَہُ قَالَ : تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لاَ یُغادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۱/ ۲۵۵]
(١٠٣٠٤) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر کا ارادہ فرماتے تو یہ نہ فرماتے کہ سفر میں زیادتی ہو، بلکہ فرمایا : اے اللہ ! تو سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب بن۔ اے اللہ ! زمین کو لپیٹ دے اور ہمارے لیے سفر آسان کر دے اور جب واپسی کا ارادہ ہوتا، ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، صرف اپنے رب کی حمد کرنے والے، جب اپنے گھر آتے تو فرماتے : اپنے رب سے خوب توبہ کرتا ہوں۔ ہمارے گناہوں کو نہ چھوڑ۔