(۱۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ یَعْنِی الثَّوْرِیَّ عَنِ الْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِیُّ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ : إِنَّا نَکُونُ فِی الرَّمْلِ وَفِینَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَائُ ، فَیَأْتِی عَلَیْنَا أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ لاَ نَجِدُ الْمَائَ ۔ قَالَ : ((عَلَیْکَ بِالتُّرَابِ))۔ یَعْنِی التَّیَمُّمَ۔
ہَذَا حَدِیثٌ یُعْرَفُ بِالْمُثَنَّی بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرٍو۔ (ج) وَالْمُثَنَّی غَیْرُ قَوَّیٍّ۔
وَقَدْ رَوَاہُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَمْرٍو إِلاَّ أَنَّہُ خَالَفَہُ فِی الإِسْنَادِ فَرَوَاہُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لاَ یَقْدِرُ عَلَی الْمَائِ أَیُجَامِعُ أَہْلَہُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ))۔
[ضعیف۔ أخرجہ أبو یعلیٰ ۵۸۷۰]
(١٠٣٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : ہم ” رمل “ جگہ میں تھے اور ہم میں حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتیں موجود تھیں۔ ہم پر چار ماہ ایسے آئے کہ ہم نے پانی نہیں پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مٹی کو لازم پکڑتے یعنی تیمم کرتے۔ “
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی عن عمرو عن أبیہ عن جدہ۔ اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔