(۱۰۳۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ سُہَیْلَ بْنَ أَبِی صَالِحٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَفْدُ اللَّہِ ثَلاَثَۃٌ : الْغَازِی وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ۔ کَذَا وَجَدْتُہُ وَکَذَا رُوِیَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سُہَیْلٍ۔
وَرَوَاہُ وُہَیْبٌ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مِرْدَاسٍ عَنْ کَعْبٍ قَالَ : الْوُفُودُ ثَلاَثَۃٌ الْغَازِی فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَافِدٌ عَلَی اللَّہِ وَالْحَاجُّ إِلَی بَیْتِ اللَّہِ وَالْمُعْتَمِرُ وَافِدٌ عَلَی اللَّہِ مَا أَہَلَّ مُہِلٌّ وَلاَ کَبَّرَ مُکَبِّرٌ إِلاَّ قِیلَ أَبْشِرْ ۔ قَالَ مِرْدَاسٌ بِمَاذَا؟ قَالَ : بِالْجَنَّۃِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ فَذَکَرَہُ۔ [منکر الاسناد]
(١٠٣٨٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین قسم کے لوگ اللہ کے نمائندے ہوتے ہیں : 1 نمازی 2 حج کرنے والا 3 عمرہ کرنے والا۔
(ب) حضرت کعب سے روایت ہے کہ وفد تین قسم کے ہوتے ہیں : 1 اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا اللہ کا وفد ہے 2 حج کرنے والا بھی اللہ کا وفد ہے۔ 3 عمرہ کرنے والا۔ جب کوئی لا الہ الا اللہ کہنے والا یہ کلمہ بلند آواز سے کہتا ہے یا کوئی تکبیر کہنے والا بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے تو کہا جاتا ہے : تو خوشخبری حاصل کر۔ خوش ہوجا۔ مرداس کہتے ہیں : کسی چیز کے ساتھ ؟ فرمایا : جنت۔