(۱۰۳۹۶) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ} قَالَ : التِّجَارَۃُ رِزْقٌ مِنْ رِزْقِ اللَّہِ حَلاَلٌ مِنْ حَلاَلِ اللَّہِ لِمَنْ طَلَبَہَا بِصِدْقِہَا وَبِرِّہَا۔ [حسن]
(١٠٣٩٦) حضرت قتادہ اللہ کے ارشاد { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ } (النساء : ٢٩) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، مگر سوداگری کر کے آپس کی خوشی سے سے مراد تجارت ہے، یہ اللہ کا رزق ہے اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں سے ہے جو اس کو سچائی اور نیکی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔