(۱۰۴۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلِمَ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ الرِّبَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَکُونَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَی أَجْلٍ فَإِذَا حَلَّ الْحَقُّ قَالَ أَتَقْضِی أَمْ تُرْبِی فَإِنْ قَضَاہُ أَخَذَ وَإِلاَّ زَادَہُ فِی حَقِّہِ وَزَادَہُ الآخَرُ فِی الأَجَلِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۵۳]
(١٠٤٦٧) زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کا دوسرے پر ایک متعین مدت پر قرض ہوتا تھا۔ جب مدت ختم ہوجاتی تو قرض دینے والا کہتا، کیا ادا کرو گے یا سود دو گے ؟ اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا وگرنہ اس کے ذمہ زیادہ کردیتا اور دوسرا مدت میں اضافہ کرلیتا۔