(۱۰۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَغَیْرُہُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَبْیَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ وَلاَ تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تُشِفُّوا بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ وَلاَ تَبِیعُوا غَائِبًا مِنْہَا بِنَاجِزٍ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نَصْرٍ : وَلاَ تَبِیعُوا مِنْہَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ ذَکَرَ عُبَادَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِثْلَ مَعْنَاہُمَا وَأَوْضَحَ ثُمَّ ذَکَرَ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۰۶۸]
(١٠٤٧٥) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونے کو سونے کے بدلے برابرسرابر ہی فروخت کرو۔ ایک دوسرے میں کمی زیادتی نہ کرو۔ اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے برابر برابر ہی لو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور نہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت کرو۔ ابونضر کی روایت میں ہے کہ نقد کو ادھار کے عوض فروخت نہ کرو۔