hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10504

.

سنن البيهقي

10504
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۴۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَلَمْ یَرَیَا بِہِ بَأْسًا فَإِنِّی لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ : مَا زَادَ فَہُوَ رِبًا فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ لِقَوْلِہِمَا فَقَالَ : لاَ أُحَدِّثُکُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- جَائَ ہُ صَاحِبُ نَخْلِہِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَیِّبٍ وَکَانَ تَمْرُ النَّبِیِّ -ﷺ- ہُوَ الدُّونُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَنَّی لَکَ ہَذَا ۔ قَالَ : انْطَلَقْتُ بِصَاعِی وَاشْتَرَیْتُ بِہِ ہَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ ہَذَا بِالسُّوقِ کَذَا وَسِعْرَ ہَذَا بِالسُّوقِ کَذَا فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْبَیْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَۃٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَیَّ تَمْرٍ شِئْتَ ۔ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ یَکْونَ رِبًا أَوِ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ قَالَ فَأَتَیْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَہَانِی وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَحَدَّثَنِی أَبُو الصَّہْبَائِ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْہُ فَکَرِہَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَقَالَ : وَکَانَ تَمْرُ النَّبِیِّ -ﷺ- ہَذَا اللَّوْنَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۹۴]
(١٠٤٩٩) ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر، ابن عباس (رض) سے صرف کے متعلق سوال کیا، وہ دونوں اس میں حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ میں ابوسعید خدری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے صرف کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے : جو زیادہ ہو وہ سود ہے، میں نے ان دونوں (ابن عمر، ابن عباس (رض) کے قول کی وجہ سے انکار کردیا تو ابوسعید کہنے لگے : میں صرف تمہیں وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا۔ ایک کھجوروں والا ایک صاع عمدہ کھجوریں لے کر آیا، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوریں ردی قسم کی تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کہاں سے ؟ اس نے کہا : میں اپنی کھجوروں کا دو صاع لے کر گیا اور میں نے یہ ایک صاع خرید لیا اور کہنے لگا : بازار میں اس کا یہ ریٹ ہے اور اس کا یہ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے سود کا کام کیا ہے، جب تیرا یہ ارادہ تھا تو اپنی کھجوریں قیمت میں فروخت کرتا۔ پھر اس قیمت کے عوض جونسی مرضی کھجوریں خریدتا۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ کھجور کھجور کے عوض یہ زیادہ حق ہے کہ وہ سود ہو یا چاندی چاندی کے عوض۔ کہتے ہیں : میں ابن عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے منع کردیا اور میں ابن عباس (رض) کے پاس نہ آیا۔
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ اس نے ابن عباس (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔