(۱۰۵۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِیَاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی شَمْخِ بْنِ فَزَارَۃَ سَأَلَہُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَرَأَی أُمَّہَا فَأَعْجَبَتْہُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ أَیَتَزَوَّجُ أُمِّہَا؟ قَالَ لاَ بَأْس فَتَزَوَّجَہَا الرَّجُلُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ وَکَانَ یَبِیعُ نُفَایَۃَ بَیْتِ الْمَالِ یُعْطِی الْکَثِیرَ وَیَأْخُذُ الْقَلِیلَ حَتَّی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ -ﷺ- فَقَالُوا : لاَ یَحِلُّ لِہَذَا الرَّجُلِ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ وَلاَ تَصْلُحُ الْفِضَّۃُ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّہِ انْطَلَقَ إِلَی الرَّجُلِ فَلَم یَجِدْہُ وَوَجَدَ قَوْمَہُ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِی أَفْتَیْتُ بِہِ صَاحِبَکُمْ لاَ یَحِلُّ فَقَالُوا : إِنَّہَا قَدْ نَثَرَتْ لَہُ بَطْنَہَا قَالَ : وَإِنْ کَانَ وَأَتَی الصَّیَارِفَۃَ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الصَّیَارِفَۃِ إِنَّ الَّذِی کُنْتُ أُبَایِعُکُمْ لاَ یَحِلُّ لاَ تَحِلُّ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ إِلاَّ وَزْنًا بِوَزْنٍ۔
[اخرجہ الفسوی فی المعرفہ ۱/ ۸۸]
(١٠٥٠١) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بنو شمخ بن فزارہ کے ایک آدمی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت سے شادی کی۔ پھر اس کی والدہ کو دیکھا، وہ اس کو پسند آئی اور اچھی لگی تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کیا وہ اس کی والدہ سے شادی کرلے۔ فرمانے لگے : کوئی حرج نہیں ہے، مرد نے شادی کرلی اور حضرت عبداللہ بیت المال کے محکم میں تھے، وہ بیت المال کی ردی چیزیں زیادہ دے کر تھوڑی لے لیتے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے۔ انھوں نے صحابہ سے سوال کیا، انھوں نے کہا : اس شخص کے لیے یہ عورت جائز نہیں ہے اور چاندی کی فروخت بھی برابر، برابر وزن میں کی جائے وگرنہ درست نہیں ہے، جب عبداللہ آئے تو اس آدمی کی طرف گئے۔ اس کو نہ پایا، لیکن اس کی قوم موجود تھی۔ کہنے لگے : جو فتویٰ میں نے تمہارے ساتھ کردیا تھا وہ درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے۔ فرمانے لگے : اگرچہ وہ حاملہ بھی ہوچکی ہے۔ پھر وہ صراف (سکے تبدیل کرنے والے) کے پاس آئے اور فرمایا : اے صراف کی جماعت ! بیشک وہ چیز جس پر میں نے تم سے بیعت لی تھی وہ جائز نہیں اور چاندی چاندی کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں مگر صرف برابر، برابر۔