hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10514

.

سنن البيهقي

10514
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ أَوَّلاً قَبْلَ أَنْ نَلْقَی الزُّہْرِیَّ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ : أَتَیْتُ بِمِائَۃِ دِینَارٍ أَبْغِی بِہَا صَرْفًا فَقَالَ لِی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ : عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ یَأْتِی خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَۃِ وَأَخَذَ مِنِّی الْمِائَۃَ دِینَارٍ فَسَأَلْتُ عُمَرَ فَقَالَ لِی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ تُفَارِقْہُ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الذَّہَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ ہَا وَہَا وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ ہَا وَہَا وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ رِبًا إِلاَّ ہَا وَہَا وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ ہَا وَہَا ۔ قَالَ سُفْیَانُ : فَلَمَّا جَائَ نَا الزُّہْرِیُّ تَفَقَّدْتُہُ فَلَمْ یَذْکُرْ ہَذَا الْکَلاَمَ قَالَ وَسَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- : یَقُولُ الذَّہَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا۔ فَذَکَرَ مِثْلَہُ سَوَاء ٌ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا أَصَحُّ حَدِیثٍ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی ہَذَا یَعْنِی فِی الصَّرْفِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ فِیہِ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ اخرجہ الفسوی فی المعرفہ ۱/ ۳۵۵]
(١٠٥٠٩) مالک بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں سو دینار لے کر آیا۔ میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ کہنے لگے : ہمارے پاس سکے ہیں، لیکن آپ ہمارے خزانچی کا انتظار کریں وہ غابہ سے آنے والا ہے اور طلحہ نے مجھ سے سو دینار لے لیے۔ میں نے سیدنا عمر (رض) سے سوال کیا تو سیدنا عمر (رض) فرمانے لگے : آپ ان سے جدا نہ ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ سونا چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ما سوائے نقد لین دین کے۔ سفیان کہتے ہیں کہ جب ہم زہری کے پاس آئے تو میں نے ان کو موجود نہ پایا۔ انھوں نے یہ کلام ذکر نہ کی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے مالک بن اوس بن حدثان سے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے سنا ، انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے۔ لیکن برابر، برابر۔