(۱۰۵۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لاَ تَبِیعُوا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَلاَ تَبِیعُوا الْوَرِقَ بِالذَّہَبِ أَحَدُہُمَا غَائِبٌ وَالآخَرُ نَاجِزٌ وَإِنِ اسْتَنْظَرَکَ حَتَّی یَلِجَ بَیْتَہُ فَلاَ تُنْظِرْہُ إِلاَّ یَدًا بَیْدٍ ہَاتِ وَہَذَا إِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمُ الرِّبَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۸۱۲]
(١٠٥١١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، فروخت کرو برابر، برابر اور چاندی کو سونے کے عوض فروخت نہ کرو کہ ایک ادھار اور دوسری نقد ہو۔ اگر وہ آپ سے گھر میں داخل ہونے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دینامگر نقد بنقد۔ یہ دس وجہ سے ہے کہ میں تم کو سود سے ڈرتا ہوں۔