(۱۰۵۴۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہْوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَکُنَّا نَبِیعُ الصَّاعَیْنِ بِالصَّاعِ فَقَالَ یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- : لاَ وَلاَ الدِّرْہَمُ بِالدِّرْہَمَیْنِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۹۷۴]
(١٠٥٤٤) ابو سعید (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ملی جلی کھجوروں کا رزق دیے گئے یعنی وہ ملی جلی ہی ہوتی تھیں تو ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع لے لیتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ ایک درہم دو درہم کے عوض بھی نہیں۔