(۱۰۵۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِی بَزَّۃَ قَالَ : قَدِمَتُ الْمَدِینَۃَ فَوَجَدْتُ جَزُورًا قَدْ جُزِرَتْ فَجُزِّئَتْ أَرْبَعَۃَ أَجْزَائٍ کُلُّ جُزْئٍ مِنْہَا بِعَنَاقٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ مِنْہَا جُزْئً ا فَقَالَ لِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ یُبَاعَ حَیٌّ بِمَیِّتٍ قَالَ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ الرَّجُلِ فَأَخْبَرْتُ عَنْہُ خَیْرًا۔
[ضعیف۔ اخرجہ الشافعی ۱۲۲۶]
(١٠٥٧٢) قاسم بن ابی بزہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، میں نے اونٹ ذبح شدہ پائے۔ ہر اونٹ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک حصہ گردن کا تھا، میں نے ایک حصہ خریدنے کا ارادہ کیا تو مدینہ کے ایک آدمی نے مجھے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زندہ کو مردہ کے بدلے خریدنے سے منع فرمایا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے اس آدمی کے متعلق سوال کیا تو مجھے اس کے بارے میں بھلائی کی اطلاع ملی۔