(۱۰۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ َخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ َخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ َخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تَزْہَی فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا تَزْہَی؟ قَالَ : حَتَّی تَحْمَرَّ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرَأَیْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّہُ الثَّمَرَۃَ فَبِمَ یَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِیہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ مَالِکٍ إِلاَّ أَنَّہُمَا لَمْ یَقُولاَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلاَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَلْ قَالاَ فَقَالَ : أَرَأَیْتَ ۔ وَقَالَ أَحَدُہُمَا فَقِیلَ لَہُ وَقَالَ الآخَرُ قَالُوا وَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ مَالِکٍ کَمَا رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۸۶]
(١٠٥٩٣) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھل پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کا پکنا کیا ہے ؟ فرمایا کہ وہ سرخ ہوجائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے کہ جب اللہ پھل کو روک لیں تو پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں کرلو گے۔
(ب) ابو طاہر ابن وہب اور وہ مالک سے نقل فرماتے ہیں ، انھوں نے یا رسول اللہ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور نہ ہی قال رسول اللہ کے الفاظ ذکر کیے ہیں، بلکہ ان دونوں نے کہا : ارایت۔ ان میں سے ایک نے کہا فقیل لہ اور دوسروں نے قالوا کے الفاظ بولے ہیں۔