(۱۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ نَفَرٍ مِنَ الْمَجُوسِ قَالَ فَجِیئَ بِفَالُوذَجَ عَلَی إِنَائٍ مِنْ فِضَّۃٍ قَالَ فَلَمْ یَأْکُلْہُ ، فَقِیلَ لَہُ حَوِّلْہُ۔قَالَ: فَحَوَّلَہُ عَلَی إِنَائٍ مِنْ خَلَنْجٍ وَجِیئَ بِہِ فَأَکَلَہُ۔
[صحیح۔ رجالہ ثقات وسندہ متصل]
(١٠٧) حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک (رض) ساتھ مجوسیوں کی ایک جماعت کے پاس تھا۔ آپ کے پاس چاندی کا ایک فانوس لایا گیا۔ حضرت انس بن مالک (رض) نے اس میں سے کچھ نہ کھایا تو مجوس سے کہا گیا : کسی اور برتن میں لے آؤ۔ چنانچہ اس نے خلنج کے برتن سے تبدیل کیا اور اس میں لے کر آیا تو انس بن مالک (رض) نے اس (برتن) سے کھایا۔