hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10634

.

سنن البيهقي

10634
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۶۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ سَمِعْتُ سُفْیَانَ یُحَدِّثُ ہَذَا الْحَدِیثَ کَثِیرًا فِی طُولِ مُجَالَسَتِی لَہُ مَا لاَ أُحْصِی مَا سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُہُ مِنْ کَثْرَتِہِ لاَ یَذْکُرُ فِیہِ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ لاَ یَزِیدُ عَلَی : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ السِّنِینَ ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِکَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَکَانَ حُمَیْدٌ یَذْکُرُ بَعْدَ بَیْعِ السِّنِینَ کَلاَمًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لاَ أَحْفَظُہُ فَکُنْتُ أَکُفُّ عَنْ ذِکْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لأَنِّی لاَ أَدْرِی کَیْفَ کَانَ الْکَلاَمُ وَفِی الْحَدِیثِ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ۔زَادَنِی أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ قَالَ : فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ الْکَلاَمُ الَّذِی لَمْ یَحْفَظْہُ سُفْیَانُ مِنْ حَدِیثِ حُمَیْدٍ َدُلُّ عَلَی أَنَّ أَمْرَہُ بِوَضْعِہَا عَلَی مِثْلِ أَمْرِہِ بِالصُّلْحِ عَلَی النِّصْفِ وَعَلَی مِثْلِ أَمْرِہِ بِالصَّدَقَۃِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَی الْخَیْرِ لاَ حَتْمًا وَمَا أَشْبَہَ ذَلِکَ وَیَجُوزُ غَیْرُہُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِیثُ الْمَعْنَیَیْنِ مَعًا وَلَمْ تَکُنْ فِیہِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَیُّہُمَا أَوْلَی بِہِ لَمْ یَجُزْ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمْ أَنْ یَحْکُمَ عَلَی النَّاسِ فِی أَمْوَالِہِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَہُمْ بَلاَ خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(١٠٦٢٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اضافہ کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھلوں کے دو سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔