(۱۰۶۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَیَّاضِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ۔ وَالْمُزَابَنَۃُ : أَنْ یَبِیعَ الرَّجُلُ ثَمَرَتَہُ کَیْلاً إِنْ زَادَ فَلِی وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَیَّ۔
وَفِی رِوَایَۃِ عَارِمٍ أَنْ یَبِیعَ الثَّمَرَۃَ بِکَیْلٍ۔وَزَادَ أَبُو الرَّبِیعِ بِہَذَا الإِسْنَادِ فِی رِوَایَتِہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَخَّصَ فِی بَیْعِ الْعَرَایَا بِخَرْصِہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۶۴]
(١٠٦٣٦) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کھجور کا پھل ماپ کر فروخت کرے اگر زیادہ ہوا تو میرے لیے اور اگر کم ہوجائے تو میرے ذمہ ہے۔
(ب) عارم کی روایت میں ہے کہ تازہ کھجوریں ماپ کر فروخت کرے۔
(ج) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع عرایا میں اندازے کی رخصت دی ہے۔