(۱۰۶۴۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِی أَحْمَدَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الْمُزَابَنَۃِ وَالْمُحَاقَلَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ : اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِی رُئُ وسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَۃُ اسْتِکْرَائُ الأَرْضِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۴۶]
(١٠٦٤٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ محاقلہ زمین کو کرائے پر دینا۔