(۱۰۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّیرَازِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی عَنْ بَشِیرِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ أَہْلِ دَارِہِ مِنْہُمْ سَہْلُ بْنُ أَبِی حَثْمَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَالَ : ذَلِکَ الرِّبَا تِلْکَ الْمُزَابَنَۃُ ۔ إِلاَّ أَنَّہُ رَخَّصَ فِی بَیْعِ الْعَرِیَّۃِ : النَّخْلَۃِ وَالنَّخْلَتَیْنِ یَأْخُذُہَا أَہْلُ الْبَیْتِ بِخَرْصِہَا تَمْرًا یَأْکُلُونَہَا رُطَبًا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۴۰]
(١٠٦٥٧) سہل بن ابی حثمہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درخت کے پھل کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا : یہ سود ہے۔ یہ مزابنہ ہے ، لیکن بیع عرایا میں رخصت دی کیونکہ گھر والے ایک یا دو کھجور کے درخت لے لیتے خشک کھجور کے بدلے اندازا۔ پھر وہ تر کھجوریں کھاتے۔