(۱۰۶۸۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِعَتَّابِ بْنِ أُسَیْدٍ : إِنِّی قَدْ بَعَثْتُکَ إِلَی أَہْلِ اللَّہِ وَأَہْلِ مَکَّۃَ فَانْہَہُمْ عَنْ بَیْعِ مَا لَمْ یَقْبِضُوا أَوْ رَبِحِ مَا لَمْ یَضْمَنُوا وَعَنْ قَرْضٍ وَبَیْعٍ وَعَنْ شَرْطَیْنٍ فِی بَیْعٍ وَعَنْ بَیْعٍ وَسَلَفٍ ۔ تَفَرَّدَ بِہِ یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الأَیْلِیُّ وَہُوَ مُنْکَرٌ بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ [حسن لغیرہ]
(١٠٦٨٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتاب بن اسید سے فرمایا کہ میں تجھے اللہ والوں اور مکہ والوں کی طرف بھیج رہا ہوں۔ ان کو منع کرنا کہ جب تک چیز کا قبضہ حاصل نہ کریں فروخت نہ کریں یا کسی چیز سے سے فائدہ نہ اٹھائیں، جس کے نقصان کے ذمہ دار قبول نہ کریں اور قرض اور بیع اور ایک بیع میں دو شرطیں اور بیع اور قرض کے بارے میں۔