(۱۰۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَرَجُلٌ آخَرَ أَظُنُّہُ ابْنَ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی أَنَسٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَبِی قَیْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ کَانَ عَلَی سَرِیَّۃٍ وَأَنَّہُ أَصَابَہُمْ بَرْدٌ شَدِیدٌ لَمْ یُرَ مِثْلُہُ ، فَخَرَجَ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ فَقَالَ: وَاللَّہِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَۃَ، وَلَکِنِّی وَاللَّہِ مَا رَأَیْتُ بَرْدًا مِثْلَ ہَذَا، ہَلْ مَرَّ عَلَی وُجُوہِکُمْ مِثْلُہُ؟ قَالُوا: لاَ۔ فَغَسَلَ مَغَابِنَہُ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((کَیْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَہُ؟))۔ فَأَثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا وَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی بِنَا وَہُوَ جُنُبٌ۔ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی عَمْرِو فَسَأَلَہُ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ، وَبِالَّذِی لَقِیَ مِنَ الْبَرْدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ {وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ} وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِلَی عَمْرٍو۔ أَخْرَجَہُمَا أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ ثُمَّ قَالَ : وَرَوَی ہَذِہِ الْقِصَّۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ فِیہِ فَتَیَمَّمَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ قَدْ فَعَلَ مَا نُقِلَ فِی الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا غَسَلَ مَا قَدَرَ عَلَی غَسْلِہِ وَتَیَمَّمَ لِلْبَاقِی۔ [صحیح]
(١٠٧١) سیدنا عمرو بن عاص (رض) ایک سر یہ میں تھے۔ ان کو سخت سردیلگی اس جیسی سردی پہلے نہیں دیکھی گئی، وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! مجھے کل احتلام ہوگیا تھا اور میں نے اس طرح کی سردی نہیں دیکھی تھی، کیا تم نے دیکھی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، پھر انھوں نے اپنے جوڑ دھوئے اور نماز جیسا وضو کیا ۔ پھر ان کو نماز پڑھائی، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا ؟ انھوں نے ان کی اچھی تعریف کی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے ہم کو جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھاتو انھوں نے سارا واقعہ بتلایا اور وہ بھی جو ان کی سردی لگی تھی، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ } اگر میں غسل کرلیتا تو مرجاتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرو کی طرف دیکھ کر ہنسے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں : دونوں روایات کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ جو غسل کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ غسل کرے اور جو طاقت نہ رکھتے ہوں وہ تیمم کرلیں۔