(۱۰۷۲۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ نَہَی أَنْ یُتَلَقَّی الأَجْلاَبُ وَأَنْ یَبِیعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرَی مُصَرَّاۃً فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ فَإِنْ حَلَبَہَا وَرَضِیَہَا أَمْسَکَہَا وَإِنْ رَدَّہَا رَدَّ مَعَہَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا شَکًّا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاۃِ فَقَالَ صَاعًا مِنْ ہَذَا أَوْ مِنْ ذَاکَ لاَ أَنَّہُ عَلَی وَجْہِ التَّخْیِیرِ لِیَکُونَ مُوَافِقًا لِلأَحَادِیثِ الثَّابِتَۃِ فِی ہَذَا الْبَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۴/ ۳۱۴]
(١٠٧٢٦) عبدالرحمن بن ابی یعلی صحابہ میں سے کسی سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے وقت تجارتی قافلے کو ملنے سے منع فرمایا اور شہری دیہاتی کے لیے بیع کریں اس سے بھی روکا۔ جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے، اگر اس کا دودھ دوہنے کے بعد پسند کرے تو اس کو رکھ لے۔ اگر واپس کرے تو ایک صاع غلے یا ایک صاع کھجور کا ساتھ دے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : فرماتے ہیں کہ یہ بعض راویوں کا شک ہے کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہوجائے۔