(۱۰۷۴۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ قَالَ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ شُرَکَائَ لِی عَبْدٌ فَاقْتَوَیْنَاہُ فِیمَا بَیْنَنَا قَالَ وَکَانَ مِنْہُمْ غَائِبٌ فَقَدِمَ فَخَاصَمَنَا إِلَی ہِشَامٍ فَقَضَی أَنْ تَزُدَّ الْعَبْدُ وَخَرَاجُہُ وَقَدْ کَانَ اجْتَمَعَ مِنْ خَرَاجِہِ أَلْفُ دِرْہَمٍ قَالَ فَأَتَیْتُ عُرْوَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ فَأَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی بِالْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ قَالَ فَأَتَیْتُ ہِشَامًا فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ فَرَدَّ ذَلِکَ وَأَجَازَہُ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُسَمِّ الأَلْفَ وَلاَ ہِشَامًا وَقَالَ : إِلَی بَعْضِ الْقُضَاۃِ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَسَمَّاہُمَا۔
(١٠٧٤٠) مخلد بن خفاف کہتے ہیں کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ایک غلام تھا، ہم نے اپنے درمیان اس کی قیمت لگائی۔ ایک ان میں سے غائب تھا، وہ آیا تو ہم جھگڑا لے کر ہشام کے پاس گئے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ غلام لوٹایا جائے اور اس کا منافع بھی۔ اس کے منافع سے ایک ہزار درہم جمع ہوچکے تھے۔ مخلد بن خفاف کہتے ہیں کہ میں عروہ کے پاس آیا تو انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے حدیث بیان کی کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اخراجات کے بدلے منافع کا فیصلہ فرمایا تھا۔ میں ہشام کے پاس آیا تو انھوں نے اپنا فیصلہ واپس لے کر اس کو درست کردیا۔