(۱۰۷۵۶) قَالَ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیُّ لَمْ یَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ شَیْئًا أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَائِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْمَدِینِیَّ فَذَکَرَہُ وَکَذَلِکَ قَالَہُ جَمَاعَۃٌ مِنْ أَئِمَّۃِ أَہْلِ النَّقْلِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْخَبَرُ فِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَعَلَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ عُہْدَۃَ ثَلاَثٍ خَاصٌّ۔
وَرُوِیَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : لَمْ یَکُنْ فِیمَا مَضَی عُہْدَۃٌ فِی الأَرْضِ لاَ مِنْ ہُیَامٍ وَلاَ مِنْ جُذَامٍ وَلاَ شَیْئٍ قُلْتُ لَہُ : مَا ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ؟ قَالَ : لاَ شَیْئَ إِذَا ابْتَاعَہُ صَحِیحًا لاَ أَرَی إِلاَّ ذَلِکَ اللَّہُ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا یَشَائُ إِلاَّ أَنْ یَأْتِیَ بِبَیِّنَۃٍ عَلَی شَیْئٍ کَانَ قَبْلَ أَنْ یَبْتَاعَہُ وَکَذَلِکَ نُرَی الأَمْرَ الآنَ۔ [صحیح]
(١٠٧٥٦) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حبان بن منقذ کو غلام کے عیب کی ضمانت تین دن دی تھی۔
(ب) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ زمین کی ضمانت، پیاس کی بیماری اور کوڑ کی ضمانت نہ ہوتی تھی۔ میں نے ان سے کہا۔ کیا تین دن نہ تھے ؟ فرماتے ہیں : جب صحیح فروخت کی جائے پھر کوئی ضمانت نہیں۔ بعد میں اللہ کوئی بیماری پیدا کرے تو اس کی مرضی۔ لیکن اگر ثابت ہوجائے کہ فروخت سے پہلے یہ بیماری تھی پھر ضمانت ہے، معاملہ اسی طرح ہی چل رہا ہے۔