(۱۰۷۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ قَالَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : الْعَبْدُ وَمَالُہُ لِسَیِّدِہِ فَلَیْسَ عَلَی سَیِّدِہِ جُنَاحٌ فِیمَا أَصَابَ مِنْ مَالِہِ۔
وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ نَافِعٌ کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَقُولُ : لاَ یَصْلُحُ لِلْعَبْدِ أَنْ یُنْفِقَ مِنْ مَالِہِ شَیْئًا وَلاَ یُعْطِیہِ أَحَدًا إِلاَّ بِإِذْنِ سَیِّدِہِ إِلاَّ أَنْ یَأْکُلَ فِیہِ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یَکْتَسِیَ۔ [صحیح]
(١٠٧٧٥) نافع فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ غلام اور اس کا مال سید کے لیے ہے اور سید پر گناہ نہیں ہے۔ جو اپنے غلام کے مال سے حاصل کرلے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ غلام کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن آقا اجازت دے یا پھر اچھائی کے ساتھ کھائے یا کپڑے بنائے۔