(۱۰۷۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ قَالَ : سُئِلَ عَامِرٌ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَی جَارِیَۃً أَیَقَعُ عَلَیْہَا قَبْلَ أَنْ یَسْتَبْرِئَ رَحِمَہَا؟ فَقَالَ : أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ نِسَائً یَوْمَ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَمَسَّ رَجُلٌ امْرَأَۃً حُبْلَی حَتَّی تَضَعَ حَمَلَہَا وَلاَ غَیْرَ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّی تَحِیضَ حَیْضَۃً ۔ وَہَذَا الْمُرْسَلُ شَاہِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ : تُسْتَبْرَأُ الأَمَۃُ إِذَا اشْتُرِیَتْ بِحَیْضَۃٍ۔ [حسن لغیرہ]
(١٠٧٩٢) زکریا بن ابی زائدۃ فرماتے ہیں کہ عامر سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص لونڈی خریدتا ہے، کیا وہ استبراء رحم سے پہلے اس سے مجامعت کرلے ؟ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اوطاس کے دن عورتیں ملیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی حاملہ عورت کے قریب نہ جائے، اس کے وضع حمل تک اور غیر حاملہ کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جب لونڈی خریدی جائے تو اس کے رحم کی صفائی کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے ۔