(۱۰۷۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ أَوْ یَزِیدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَنْہَی عَنْ بَیْعِ دَہْ یَازْدَہْ أَوْ دَہْ دُوَازْدَہْ وَیَقُولُ : إِنَّمَا ہُوَ بَیْعُ الأَعَاجِمِ وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا نُہِیَ عَنْہُ إِذَا قَالَ : ہُوَ لَکَ بِدَہْ یَازْدَہْ أَوْ قَالَ بِدَہْ دُوَازْ دُہْ لَمْ یُسَمِّ رَأْسَ الْمَالِ ثُمَّ سَمَّاہُ عِنْدَ النَّقْدِ وَکَذَلِکَ مَا رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۵۰۱۱]
(١٠٧٩٥) عبیداللہ بن ابی زیاد یا یزید نے عبداللہ بن عباس سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں : ١٠ کی چیز ١١ کے بدلے یا ١٠ کی چیز بارہ کے بدلے۔ یہ عجمیوں کی بیع ہے۔ یہ احتمال ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جب کہا جائے کہ آپ کے لیے ١٠ کی چیز ١٢ کے بدلے لیکن اصل مال کا نام نہیں لیتا۔ پھر نقدی کے موقع پر نام لیتا ہے، اس طرح ابن عمر سے مروی ہے۔