(۱۰۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ کَانَ یَسِیرُ عَلَی جَمَلٍ لَہُ قَدْ أَعْیَا فَأَرَادَ أَنْ یُسَیِّبَہُ قَالَ فَلَحِقَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَضَرَبَہُ وَدَعَا لَہُ فَسَارَ سَیْرًا لَمْ یُسِرْ مِثْلَہُ ثُمَّ قَالَ : بِعْنِیہِ بِوَقِیَّۃٍ ۔ قُلْتُ : لاَ ثُمَّ قَالَ : بِعْنِیہِ بِوَقِیَّۃٍ ۔ قَالَ : فَبِعْتُہُ فَاسْتَثْنَیْتُ حُمْلاَنَہُ إِلَی أَہْلِی فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَیْتُہُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِی ثَمَنَہُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَأَرْسَلَ عَلَی إِثْرِی : أَنِّی مَا مَاکَسْتُکَ لآخُذَ جَمَلَکَ خُذْ جَمَلَکَ وَدَرَاہِمَکَ فَہُمَا لَکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ زَکَرِیَّا۔ [صحیح۔ بخاری ۲۵۶۹]
(١٠٨٣٥) شعبی فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ (رض) اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے ، وہ تھک گیا تو جابر (رض) نے ارادہ کیا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ کہتے ہیں : پیچھے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ملے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مارا اور دعا کی۔ وہ ایسا چلا کہ اس سے پہلے اس کی مثل نہ چلا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ ایک اوقیہ کا فروخت کر دو ۔ میں نے کہا : نہیں۔ پھر فرمایا : مجھے ایک اوقیہ کا فروخت کر دو ۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : میں فروخت کرتا ہوں لیکن اپنے گھر تک سواری کرنے کو مستثنیٰ کرتا ہوں۔ جب میں گھر آگیا تو اونٹ کو لے کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیمت نقد دے دی۔ میں واپس چلا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پیچھے کسی کو روانہ کیا کہ میں تجھ سے سستا نہ خریدنا چاہتا تھا کہ آپ کا اونٹ لے لوں ، اپنا اونٹ اور قیمت لے لو ، یہ دونوں آپ کے ہیں۔