(۱۰۸۷۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِہَِذَا الْحَدِیثِ۔ زَادَ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّائِ یَشْتَمِلُ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ یَضَعُ طَرَفَیِ الثَّوْبِ عَلَی عَاتِقِہِ الأَیْسَرِ وَیُبْرِزُ شِقَّہُ الأَیْمَنَ قَالَ وَالْمُنَابَذَۃُ أَنْ یَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ ہَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَیْعُ وَالْمُلاَمَسَۃُ أَنْ یَمَسَّہُ بِیَدِہِ وَلاَ یَنْشُرَہُ وَلاَ یُقَلِّبَہُ إِذَا مَسَّہُ وَجَبَ الْبَیْعُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(١٠٨٧١) حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ اشتمال الصماء یہ ہے کہ وہ ایک کپڑے کے دونوں اطراف بائیں کندھے پر رکھ لیتا ہے اور سیدھا کندھا کپڑے سے خالی ہوتا ہے اور منابذہ : وہ کہتا ہے کہ جب میں نے یہ کپڑا پھینک دیاتو بیع واجب ہوگی اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ کپڑے کو اپنے ہاتھ سے چھوئے گا۔ اس کو پھیلائے اور الٹے پلٹے گا نہیں، جب ہاتھ لگا لیاتو بیع واجب ہوگئی۔