(۱۰۸۷۹) وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ فَلَہُ أَوْکَسُہُمَا أَوِ الرِّبَا ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا فَذَکَرَہُ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَرَأْتُ فِی کِتَابِ أَبِی سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی تَفْسِیرِ ہَذَا الْحَدِیثِ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ حُکُومَۃً فِی شَیْئٍ بِعَیْنِہِ کَأَنَّہُ أَسْلَفَ دِینَارًا فِی قَفِیزِ بُرٍّ إِلَی شَہْرٍ فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ وَطَالَبَہُ بِالْبُرِّ قَالَ لَہُ بِعْنِی الْقَفِیزَ الَّذِی لَکَ عَلَیَّ بِقَفِیزَیْنِ إِلَی شَہْرَیْنِ فَہَذَا بَیْعٌ ثَانٍ قَدْ دَخَلَ عَلَی الْبَیْعِ الأَوَّلِ فَصَارَ بَیْعَتَیْنِ فِی بَیْعَۃٍ فَیُرَدَّانِ إِلَی أَوْکَسِہِمَا وَہُوَ الأَصْلُ فَإِنْ تَبَایَعَا الْبَیْعَ الثَّانِیَ قَبْلَ أَنْ یَتَنَاقَضَا الْبَیْعَ الأَوَّلَ کَانَا مُرْبِیَیْنِ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۲۰۴۶۱]
(١٠٨٧٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایک بیع میں دو بیعوں کو کیا اس کے لیے دونوں میں خسارہ یا سود ہے۔
(ب) شیخ (رح) فرماتے ہیں : میں نے ابو سلیمان کے خط میں اس حدیث کی تفسیر پڑھی۔ کسی چیز کی اصل حوالے کردینا کہ گندم کا ایک قفیز ایک مہینہ کی مدت مقررہ تک دے دیا۔ جب مدت مکمل ہوئی اس نے گندم کا مطالبہ کردیا تو لینے والے نے کہا : وہ قفیز گندم کا جو میرے اوپر قرض تھا وہ مجھے دو قفیزوں کے بدلے دو ماہ کی مدت تک فروخت کردو۔ یہ دوسری بیع ہے جو پہلی بیع میں شامل ہوگئی تو یہ ایک بیع میں دو بیوع ہیں۔ یہ کمی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔ یعنی اصل کی طرف۔ اگر وہ دوسری بیع کرتے ہیں پہلی بیع کو ختم کرنے سے پہلے تو دونوں سود خور ہیں۔