hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10890

.

سنن البيهقي

10890
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالنَّجْشُ أَنْ یَحْضُرَ الرَّجُلُ السِّلْعَۃَ تُبَاعُ فَیُعْطِی بِہَا الشَّیْئَ وَہُوَ لاَ یُرِیدُ شِرَائَ ہَا لِیَقْتَدِیَ بِہِ السُّوَّامُ فَیُعْطُونَ بِہَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانُوا یُعْطُونَ لَوْ لَمْ یَسْمَعُوا سَوْمَہُ فَمَنْ نَجَشَ فَہُوَ عَاصٍ بِالنَّجْشِ إِنْ کَانَ عَالِمًا بِنَہْیِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ وَالْبَیْعُ جَائِزٌ لاَ یُفْسِدُہُ مَعْصِیَۃُ رَجُلٍ نَجَشَ عَلَیْہِ قَالَ وَقَدْ بِیعَ فِیمَنْ یَزِیدُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَازَ الْبَیْعُ وَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ زَادَ مَنْ لاَ یُرِیدُ الشِّرَائَ ۔ [صحیح]
(١٠٨٨٥) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ” النجش “ یہ ہے کہ آدمی فروخت ہونے والے سامان کے پاس موجود ہو جب وہ فروخت ہو رہا ہو۔ اس کے عوض اس کو کچھ دیا جائے لیکن وہ سامان خریدنا نہیں چاہتا۔ تاکہ بھاؤ کرنے والے (بولی لگانے والے) اس کی پیروی کریں۔ وہ جتنا دینا چاہتے تھے، اس سے زیادہ دیے جاتے۔ اگر اس کا بھاؤ نہ سنیں۔ بھاؤ میں اضافہ کرنے والا اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ممانعت کو جانتا ہے تو گناہ گار ہے۔ بیع جائز ہے اس آدمی کی نافرمانی کی وجہ سے بیع فاسد نہ ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایسی بیع ہوتی تھی تو بیع جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ریٹ میں اضافہ کرنے والا خریدنے کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو۔