(۱۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ الْکَیْسَانِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ خُصَیْفٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ أُتِیَ بِقَدَحٍ مُفَضَّضٍ لِیَشْرَبَ مِنْہُ فَأَبَی أَنْ یَشْرَبَ ، فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ مُنْذُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-نَہَی عَنِ الشُّرْبِ فِی آنِیَۃِ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ لَمْ یَشْرَبْ فِی الْقَدَحِ الْمُفَضَّضِ۔وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عَائِشَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ تمام فی فوائدہ ۲/۲۹۱]
(١١٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس چاندی کے ساتھ پالش کیا ہوا پیالا لایا گیا تاکہ وہ اس سے پییں، لیکن انھوں نے اس میں پینے سے انکار کردیا، میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ابن عمر (رض) نے جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا ہے تب سے چاندی لگے ہوئے برتن میں نہیں کھایا۔