(۱۰۹۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنِی عَمِّی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَہُ أَنَّہُمْ کَانُوا یَتَبَایَعُونَ الطَّعَامَ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الرُّکْبَانِ فَنَہَاہُمْ أَنْ یَبِیعُوہُ فِی مَکَانِہِ الَّذِی ابْتَاعُوہُ فِیہِ حَتَّی یَنْقُلُوہُ إِلَی سُوقِ الطَّعَامِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ وَقَالَ فِی مَتْنِہِ: کُنَّا نَتَلَقَّی الرُّکْبَانَ فَنَشْتَرِی مِنْہُمُ الطَّعَامَ فَنَہَانَا النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ نَبِیعَہُ حَتَّی نَبْلُغَ بِہِ سُوقَ الطَّعَامِ۔
وَفِی ہَذَا دِلاَلَۃٌ عَلَی صِحَّۃِ الاِبْتِیَاعِ مِنَ الرُّکْبَانِ وَإِنَّمَا مُنِعُوا مِنْ بَیْعِہِ بَعْدَ الْقَبْضِ حَتَّی یَنْقُلُوہُ إِلَی سُوقِ الطَّعَامِ لِئَلاَّ یُغْلُوا ہُنَاکَ عَلَی مَنْ یُقَدِّرُ أَنَّہُ فِی ذَلِکَ الْمَوْضِعِ أَرْخَصُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۰۴۸]
(١٠٩٢١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تجارتی قافلوں سے سامان خریدتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع فرما دیا کہ وہ اس جگہ فروخت کریں جہاں سے انھوں نے خریدا ہے۔ یہاں تک کہ بازار منتقل کیا جائے۔
(ب) جویریہ فرماتی ہیں کہ ہم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر ملتے۔ ان سے غلہ خریدتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بازار لے جانے سے پہلے فروخت نہ کرو۔
نوٹ : تجارتی قافلوں سے سامان خریدنا درست ہے ، صرف قبضہ کی وجہ سے منع کیا گیا کہ وہ اس کو منتقل کرلیں، ممکن ہے اس جگہ سے دوسری جگہ غلہ زیادہ قیمت کا ہو۔