(۱۰۹۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ وَخَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاہِمَ ثُمَّ إِنَّ الْمُسْتَقْرِضَ أَفْقَرَ الْمُقْرِضَ ظَہَرَ دَابَّتِہِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : مَا أَصَابَ مِنْ ظَہْرِ دَابَّتِہِ فَہُوَ رِبًا قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : یَذْہَبُ إِلَی أَنَّہُ قَرْضٌ جَرَّ مَنْفَعَۃً۔ قَالَ الشَّیْخُ أَحْمَدُ : ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔
وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ رَجُلاً أَقْرَضَ رَجُلاً دَرَاہِمَ وَشَرَطَ عَلَیْہِ ظَہْرَ فَرَسِہِ فَذُکِرَ ذَلِکَ لاِبْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ : مَا أَصَابَ مِنْ ظَہْرِہِ فَہُوَ رِبًا۔ [ضعیف]
(١٠٩٣٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جب ان سے سوال ہوا کہ ایک آدمی دوسرے سے چند درہم قرض وصول کیا، پھر قرض لینے والے کو مقروض کی سواری کی ضرورت پڑگئی تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا ہے، وہ سود ہے۔
حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایسا قرض جو نفع کا سبب ہے۔ وہ سود ہے۔
(ب) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے چند درہم قرض لیا اور اس کے گھوڑے پر سواری کی شرط لگائی، ابن مسعود (رض) کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا۔ جو اس نے سواری سے فائدہ حاصل کیا، وہ سود ہے۔