(۱۰۹۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ حُمَیْدٍ الضَّبِّیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی یَحْیَی قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَقُلْتُ : یَا أَبَا حَمْزَۃَ الرَّجُلُ مِنَّا یُقْرِضُ أَخَاہُ الْمَالَ فَیُہْدِی إِلَیْہِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أُقْرِضَ أَحَدُکُمْ قَرْضًا فَأَہْدَیَ إِلَیْہِ طَبَقًا فَلاَ یَقْبَلْہُ أَوْ حَمَلَہُ عَلَی دَابَّۃٍ فَلاَ یَرْکَبْہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ قَبْلَ ذَلِکَ۔ کَذَا قَالَ۔ [منکر۔ اخرجہ ابن ماجہ ۲۴۳۲]
(١٠٩٣٤) یزید بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو سوال کیا، اے ابو ہمزہ ! ایک آدمی قرض لیتا ہے، پھر قرض دینے والے کو ہدیہ دیتا ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہیں قرض دیا جائے۔ پھر اس کے عوض کو تحفہ ملے یا سواری ملے تو قبول نہ کرے الایہ کہ ان کا آپس میں پہلے کا تعلق ہو۔