(۱۰۹۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّی أَسْلَفْتُ رَجُلاً سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَیْہِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُہُ فَقَالَ عَبْدُاللَّہِ بْنُ عُمَرَ : فَذَلِکَ الرِّبَا۔ قَالَ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّہِ: السَّلَفُ عَلَی ثَلاَثَۃِ وُجُوہٍ : سَلَفٌ تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ اللَّہِ فَلَکَ وَجْہُ اللَّہِ وَسَلَفٌ تُرِیدُ بِہِ وَجْہَ صَاحِبِکَ فَلَکَ وَجْہُ صَاحِبِکَ وَسَلَفٌ تُسْلِفْہُ لِتَأْخُذَ خَبِیثًا بِطَیِّبٍ فَذَلِکَ الرِّبَا۔ قَالَ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ : أَرَی أَنْ تَشُقَّ الصَّحِیفَۃَ فَإِنْ أَعْطَاکَ مِثْلَ الَّذِی أَسْلَفْتَہُ قَبِلْتَہُ وَإِنْ أَعْطَاکَ دُونَ مَا أَسْلَفْتَہُ فَأَخَذْتَہُ أُجِرْتَ وَإِنْ أَعْطَاکَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَہُ طَیِّبَۃٌ بِہِ نَفْسَہُ فَذَلِکَ شُکْرٌ شَکَرَہُ لَکَ وَلَکَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَہُ۔[ضعیف۔ اخرجہ مالک ۱۳۶۲]
(١٠٩٣٧) حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں نے کسی سے قرض لیا ہے، اس سے بہتر ادا کرنے کی شرط رکھی ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرمانے لگے : یہ سود ہے تو اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ فرمانے لگے کہ قرض تین قسم کا ہے : 1 جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ 2 جس سے تو اپنے ساتھی کی رضا چاہتا ہو 3 ایسا پاکیزہ رزق جس سے تو خبیث کی چاہت رکھتا ہو۔ یہ سود ہے۔ اس نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : آپ معاہدہ کے ورق پھاڑ ڈالیں، اگرچہ قرض آپ نے دیا ہے، ویسا ہی واپس کرے تو قبول کرلینا۔ اگر اس کے علاوہ ادا کرے یعنی گھٹیا تو پھر آپ قبول کرتے ہیں تو اجر ملے گا۔ اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے بہتر واپس کرتا ہے تو یہ شکر ہے، جو اس نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور آپ کو ڈھیل کی وجہ سے اجر ملے گا۔