(۱۰۹۵۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ یَعْنِی ابْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَأَنَا سَأَلْتُہُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ قَرَأْتُہُ عَلَی فُضَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنْ أَبِی حَرِیزٍ أَنَّ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَہُ : أَنَّ الأَسْوَدَ بْنَ یَزِیدَ کَانَ یَسْتَقْرِضُ مِنْ مَوْلًی لِلنَّخَعِ تَاجِرٍ فَإِذَا خَرَجَ عَطَاؤُہُ قَضَاہُ وَإِنَّہُ خَرَجَ عَطَاؤُہُ فَقَالَ لَہُ الأَسْوَدُ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ عَنَّا فَإِنَّہُ قَدْ کَانَت عَلَیْنَا حُقُوقٌ فِی ہَذَا الْعَطَائِ فَقَالَ لَہُ التَّاجِرُ لَسْتُ فَاعِلاً فَنَقَدَہُ الأَسْوَدُ خَمْسَمِائَۃِ دِرْہَمٍ حَتَّی إِذَا قَبَضَہَا التَّاجِرُ قَالَ لَہُ التَّاجِرُ دُونَکَ فَخُذْہَا فَقَالَ لَہُ الأَسْوَدُ : قَدْ سَأَلْتُ ہَذَا فَأَبَیْتَ فَقَالَ لَہُ التَّاجِرُ : إِنِّی سَمِعْتُکَ تُحَدِّثْنَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقُولُ : مَنْ أَقْرَضَ شَیْئًا مَرَّتَیْنِ کَانَ لَہُ مِثْلَ أَجْرِ أَحَدِہِمَا لَوْ تَصَدَّقَ بِہِ ۔
تَفَرَّدَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ أَبُو حَرِیزٍ قَاضِی سِجِسْتَانَ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن حبان ۱۱۵۵]
(١٠٩٥٣) اسود بن یزید اپنے غلام سے لکڑی یا نباتات کی تجارت کے لیے قرض وصول کرتے اور کہتے : جب اس کا مال آئے گا تو قرض واپس کر دے گا۔ جب ان کا مال آیا تو اسود نے کہا : اگر چاہو تو ہم سے مؤخر کر دو ، کیونکہ اس مال میں اور بھی حقوق ہیں تو تاجر کہہ دیتا : میں ایسا کام نہ کروں گا تو اسود نے اس کو ٥٠٠ درہم نقد دے دیے، جب تاجر نے وصول کرلیے تو تاجر نے کہا : اس سے کم لے لو۔ تو اسود نے کہا : میں نے پہلے کہا تو آپ نے انکار کردیا تو تاجر نے کہا : میں نے آپ سے سنا ہے کہ آپ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایک چیز کو دو مرتبہ قرضہ میں دیا تو اس کے لیے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے۔