hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10980

.

سنن البيهقي

10980
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۹۷۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ مِہْرَانَ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَرَجْنَا أَنَا وَأَبِی نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِی ہَذَا الْحَیِّ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ یَہْلِکُوا فَکَانَ أَوَّلُ مَا لَقِینَا أَبُو الْیَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَمَعَہُ غُلاَمٌ لَہُ وَمَعَہُ ضِمَامَۃٌ مِنْ صُحُفٍ وَعَلَی أَبِی الْیَسَرِ بُرْدَۃٌ وَمَعَافِرِیٌّ وَعَلَی غُلاَمِہِ بُرْدَۃٌ وَمَعَافِرِیٌّ فَقَالَ لَہُ أَبِی : یَا عَمُّ إِنِّی أَرَی فِی وَجْہِکَ سَفْعَۃً مِنْ غَضَبٍ قَالَ : أَجَلْ کَانَ لِی عَلَی فُلاَنِ بْنِ فُلاَنِ الْحَرَامِیِّ مَالٌ فَأَتَیْتُ أَہْلَہُ فَسَلَّمْتُ فَقُلْتُ : ثَمَّ ہُوَ۔ قَالُوا : لاَ فَخَرَجَ عَلَیَّ ابْنٌ لَہُ صَغِیرٌ فَقُلْتُ : أَیْنَ أَبُوکَ؟ قَالَ : سَمِعَ صَوْتَکَ فَدَخَلَ أَرِیکَۃَ أُمِّی فَقُلْتُ : اخْرُجْ إِلَیَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَیْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ فَقُلْتُ : مَا حَمَلَکَ عَلَی أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّی؟ قَالَ : أَنَا وَاللَّہِ أُحَدِّثُکَ ثُمَّ قَالَ لاَ أَکْذِبُکَ خَشِیتُ وَاللَّہِ أَنْ أُحَدِّثُکَ فَأَکْذِبَکَ وَأَنْ أَعِدَکَ فَأُخْلِفَکَ وَکُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکُنْتُ وَاللَّہِ مُعْسِرًا قَالَ قُلْتُ : آللَّہِ قَالَ : آللَّہِ قَالَ قُلْتُ : آللَّہِ قَالَ : آللَّہِ قَالَ قُلْتُ : آللَّہِ قَالَ : آللَّہِ قَالَ : فَأَتَی بِصَحِیفَتِہِ ثُمَّ مَحَاہَا بِیَدِہِ وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتَ قَضَائً فَاقْضِنِی وَإِلاَّ أَنْتَ فِی حِلٍّ فَأَشْہَدُ بَصَرُ عَیْنَیَّ ہَاتَیْنِ وَوَضَعَ إِصْبَعَیْہِ عَلَی عَیْنَیْہِ وَسَمِعَ أُذُنَیَّ ہَاتَیْنِ وَوَعَاہُ قَلْبِی ہَذَا وَأَشَارَ إِلَی نِیَاطِ قَلْبِہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَقُولُ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَہُ أَظَلَّہُ اللَّہُ فِی ظِلِّہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۳۰۰۶]
(١٠٩٧٥) عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت فرماتے ہیں : میں اور میرے ابو جان انصار کے اس قبیلہ میں علم کی تلاش کے لیے ، ان کی ہلاکت سے پہلے نکلے۔ سب سے پہلے ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ابو الیسر سے ملے، ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اور ان کے پاس قرآن کے کچھ اجزا تھے۔ ابو ایسر کے اوپر ایک معافری چادر تھی اور اس کے غلام پر بھی۔ میرے ابو نے کہا : اے چچا ! آپ کے چہرے پر میں غصہ کی وجہ سے سیاہی دیکھتا ہوں۔ اس نے کہا : فلاں بن فلاں حرامی کے ذمہ میرا مال تھا۔ میں ان کے گھر آیا اور سلام کہا، میں نے کہا : وہ کہاں ہے ؟ انھوں نے کہا : وہ نہیں ہے، اس کا چھوٹا بیٹا میرے پاس آیا، میں نے کہا : تیرا والد کدھر ہے ؟ اس نے کہا : اس نے آپ کی آواز سنی اور وہ میری امی کی چادر یا تکیہ کے پیچھے چھپ گیا، میں نے کہا : نکلو میں جانتا ہوں تم کہاں چھپے ہو ؟ وہ آیا تو میں نے پوچھا : تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم مجھ سے چھپ گئے، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تجھے بیان کروں گا، پھر کہا : میں جھوٹ نہ بولوں گا۔ کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ میں تجھے بیان کروں اور جھوٹ بولوں یہ کہ میں تجھ سے وعدہ کروں اور وعدہ خلافی کروں اور آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں تنگ دست ہوں۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! ١ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا : ہاں اللہ کی قسم ! میں نے کہا : کیا اللہ کی قسم ؟ اس نے کہا : ہاں اللہ کی قسم ! پھر وہ معاہدہ والا کاغذ اور صحیفہ لائے، اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا ڈالا اور فرمایا : اگر قرض واپسی کے لیے پاؤ تو واپس کردینا وگرنہ آپ آزاد ہیں۔ میری دو آنکھوں نے دیکھا۔ اس نے اپنی دو انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھی اور میرے ان دو کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا اور دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کو معاف کردیا تو اللہ اس کو اپنا سایہ نصیب فرمائے گا۔