(۱۰۹۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِیُّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ قَالَ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ بْنُ أَبِی الْعَاصِ قَالَ قَالَ لِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہَلْ قِبَلَکُمْ مُتَّجَرٌ فَإِنْ عِنْدِی مَالُ یَتِیمٍ قَدْ کَادَتِ الزَّکَاۃُ أَنْ تَأْتِیَ عَلَیْہِ قَالَ قُلْتُ لَہُ : نَعَمْ قَالَ : فَدَفَعَ إِلَیَّ عَشْرَۃَ آلاَفٍ فَغِبْتُ عَنْہُ مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ لِی : مَا فَعَلَ الْمَالُ قَالَ قُلْتُ : ہُوَ ذَا قَدْ بَلَغَ مِائَۃَ أَلْفٍ قَالَ : رُدَّ عَلَیْنَا مَالَنَا لاَ حَاجَۃَ لَنَا بِہِ۔
(١٠٩٨٥) حکم بن ابی العاص فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس کوئی تاج رہے، میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے جو زکوۃ کی ادائیگی سے ختم ہوا چاہتا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے مجھے دس ہزار دیے ، چنانچہ میں وہ مال لے کر کچھ عرصہ غائب رہا، پھر میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا : اس مال کا کیا بنا ؟ میں نے کہا : وہ ایک لاکھ بن چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ہمیں ہمارا مال واپس کر دو ہمیں تجارت سے کوئی غرض نہیں۔