(۱۱۰۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِقَتْلِ الْکِلاَبِ فَقَتَلْنَاہَا حَتَّی إِنْ کَانَتِ الأَعْرَابِیَّۃُ تَجِیئُ مَعَہَا کَلْبُہَا فَنَقْتُلُہُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَوْلاَ أَنَّ الْکِلاَبَ أَمَۃٌ مِنَ الأُمَمِ أَکْرَہُ أَنْ أُفْنِیَہَا لأَمَرْتُ بِقَتْلِہَا وَلَکِنِ اقْتُلُوا مِنْہَا کُلَّ أَسْوَدَ بَہِیمٍ ذِی عَیْنَیْنِ بَیْضَاوَیْنِ ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۷۲]
(١١٠٣٤) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، چنانچہ آپ نے کتوں کو قتل کیا حتیٰ کہ کوئی دیہاتی عورت آتی اس کے ساتھ کتا ہوتا تو ہم اسے مار ڈالتے ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر کتے ایک ایسی جنس نہ ہوتے جسے ختم کرنا میں ناپسند کرتا ہوں تو میں اس کے قتل کا حکم دیتا، لیکن اب تم صرف وہ سیاہ کتا قتل کروجس کے سر پر دو سفید آنکھیں بنی ہوتی ہیں۔