(۱۱۰۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَیْرُہُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَۃَ السَّبَائِیِّ مِنْ أَہْلِ مِصْرَ أَنَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا یُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلاً أَہْدَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَاوِیَۃَ خَمْرٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّہَ قَدْ حَرَّمَہَا ۔ فَقَالَ : لاَ فَسَارَّ إِنْسَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بِمَ سَرَرْتَہُ ۔قَالَ : أَمَرْتُہُ أَنْ یَبِیعَہَا قَالَ : إِنَّ الَّذِی حَرَّمَ شُرْبَہَا حَرَّمَ بَیْعَہَا ۔ قَالَ فَفَتَحَ الْمَزَادَتَیْنِ حَتَّی ذَہَبَ مَا فِیہِمَا۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۷۹]
(١١٠٤٢) اہل مصر میں سے ایک شخص عبدالرحمن بن وعلہ سبائی نے ابن عباس (رض) سے انگوروں کے نچوڑے ہوئے پانی کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شراب سے بھرا ہوا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر دیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پوچھا : کیا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کردی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں پھر اس سے ایک آدمی نے سرگوشی کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا سرگوشی کر رہے تھے ؟ اس نے کہا : میں نے اسے کہا ہے کہ تو بیچ ڈال، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس چیز کا پینا حرام ہے اس کا بیچنا بھی حرام ہے۔ راوی کہتا ہے پھر اس نے دو مشکیزے کھولے اور جو کچھ ان میں تھا اسے ضائع کردیا ۔